کافر کا بچہ

->->

کافر کا بچہ

کافر کا بچہ

(پیر سید مدثر نذر)
انکل ! انکل! میرے چہرے پر بھی جھنڈا بنائیں۔
کھلکھلاتا، خوبصورت چہرہ لئیے ایک پیارا سا گول مٹول بچہ میرے سامنے آگیا۔
امریکی سفارتخانے کے تحت جاری DIYA پروگرام کے تحت نوجوانوں کا ایک گروپ مذہبی ہم آہنگی اور برداشت کے فروغ کیلئے کام کر رہا ہے۔ مجھے اس گروپ کی راہنمائی کیلئے چنا گیا تھا۔ ابتدائی سرگرمیوں میں پہلی سرگرمی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اکٹھا کر کے رنگوں اور نظموں کے ساتھ ایک شام گزارنا مقصود تھا۔ جگہ کا انتخاب پاکستان سوئٹ ہومز ٹھہرا۔
رمضان کا دن ، درجہ حرارت 44ڈگری کو پہنچا ہوا۔ پہلے سوچا کہ جانے دو، مزاج بھی ناساز۔ کوئی بہانہ کر کے شرکت سے معذرت کر لیتے ہیں ۔ پھر گروپ میں شامل نوجوانوں کا خیال آیا جو مجھے Mentor سمجھ کر مجھ سے نہ صرف راہنمائی کی توقع رکھتے ہیں بلکہ گھر کے بزرگ کی طرح احترام سے بھی نوازتے ہیں۔ ساتھ ساتھ دھیمے لہجے کے مالک شاہد وسیم کا خیال بھی آیا۔ یہ دھیمے لہجے کے لوگوں کا دھیمہ دھیمہ احتجاج ایک قیامت ہوتا ہے۔
مقررہ وقت کے بعد ہی پاکستان سوئٹ ہومز پہنچا۔ نوجوانوں نے تو ایک سماں باندھا ہوا تھا۔ گروپ کا گرو راجکمار، مٹھی سے تعلق رکھنے والا باغی سینے پر اعزاز حسین کی تصویری شرٹ سجائے کیمرے کے سامنے اپنے تاثرات ریکارڈ کروا رہا تھا۔
چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کا ایک اجتماع زمیں پر کاغذ رکھے ان میں رنگ بکھیرنے میں مشغول۔ ایک سمت دو نوجوان ساز رکھے ملی نغمے سنا رہے۔ کچھ دیر کی میل ملاقات کے بعد مجھے لگا کہ کچھ کرنا بھی چاہئے۔ فوراً تجویز آئی بچوں کے چہروں پر Face Painting بنائیں۔ میں نے بھی حامی بھر لی۔ رنگ ، برش اور بچوں کی ایک لمبی قطار
انکل ! انکل! میرے چہرے پر بھی جھنڈا بنائیں۔
کھلکھلاتا، خوبصورت چہرہ لئیے ایک پیارا سا گول مٹول بچہ میرے سامنے آگیا!
آجا میرے شیر!
میں نے اس کا پیارا سا چہرہ رنگوں سے رنگنا شروع کر دیا۔ ایک گال پر پاکستان کا جھنڈا مکمل ہوا تو وہ مچل کر بولا۔ دوسری طرف بھی۔
پوچھا کیا بناوں؟ کارٹون؟
بولا۔ نہیں “پھر پاکستان کا جھنڈا”
خوشگوار حیرت ہوئی۔ آج بھی بچے اپنے ملک سے اتنی محبت رکھتے ہیں۔ یقیناً کسی محبِ وطن گھر کا بچہ ہوگا۔ ماں اور باپ کی تربیت اور حُب الوطنی کا رنگ ہے جو اس کی فرمائش سے جھلکتا ہے۔
دوسرا جھنڈا مکمل ہوا تو ہاتھ کی پشت میری جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔ اس پر میرا نام بھی لکھ دیں۔
میں نے کہا ضرور کیوں نہیں؟ کیا نام ہے تمھارا ؟
یش
یش؟ اوہ ! ہندو؟
میں نے غور سے اسے دیکھا۔
اس کے گول مٹول پیارے سے چہرے پر مسکراتے ہونٹوں کے دونوں کنارے ، گالوں پر میرے ہاتھوں بنایا پاکستان کا پرچم
آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور اعتماد
لہجے میں معصومیت۔
چکرا کر رہ گیا۔
بڑی مشکل سے اس کا نام ہاتھ کی پشت پر لکھا اور یش کو روانہ کیا۔
یش مجھے اداس کر گیا۔
سوچ رہا تھا کہ کل جب یش ہمارے تشکیل کردہ معاشرے کا چہرہ دیکھے گا تو اس پر کیا گزرے گی؟ اسکی معصومیت کن مراحل سے گزر کر جوان ہو گی؟ اس کی حب الوطنی پر کتنی مرتبہ شک کیا جائے گا۔ اور یہ معصوم جو ابھی ذات ، مذہب، قوم، اور زبان سے واقف بھی نہیں۔ ان باتوں کا علم ہوتے ہوتے اسے ہم سب ملکر کتنی مرتبہ یقین دلائیں گے کہ وہ “کافر کا بچہ” ہے۔
کافر کا بچہ
سنتوش نام کے دو کردار رہے میری زندگی میں۔
ایک میرا ہمسائیہ اور سکول فیلو سنتوش عرف شنّے اور دوسرے ڈاکٹر سنتوش کامرانی۔
شنّے تو یار تھا۔ وہ اپنی والدہ کو بھابھی کہتا تھا اور ہم سب بھی۔ ہم کو گلے لگا کر عید ملنے والا شنّے۔ اور ماوں کی طرح ہم سے محبت کرنے والی اس کی ماں۔ کمال لوگ تھے۔ پھر وہ انڈیا چلے گیۓ۔
اور ڈاکٹر کامرانی۔ ایک صوفیِ بدمست۔ ایک دوست کے توسط ملے اور پھر دوست ہو گیۓ۔ کمال خوبصورت شخص۔ جو دم غافل، سو دم کافر کی تصویر۔ آپ مشکل میں ہوں یا کوئی الجھن اگر ڈاکٹر صاحب کے علم میں آ گئی تو بس اب بھول جائیں وہ اسکا کوئی نہ کوئی حل نکال کر ہی رہیں گے چاہے آپکو جانتے تک نہ ہوں۔ اسلام آباد سے کراچی جاتے ہوئے اپنے گھر کا سارا سامان میرے حوالے کر گئے۔ کہ وہاں سب کچھ موجود ہے۔ میں نے پوچھا اس سب کا کیا کروں؟ بولے جس جس کو ضرورت ہو دے دیں۔
ریاست اور معاشرہ ماں کی گود کی طرح ہونا چاہیۓ ۔ کوئی شنّے کیوں اپنا وطن چھوڑ کر جائے؟کسی یش کو وطن کی محبت کے بدلے شک کی نگاہ کا سامنا کیونکر کرنا پڑے؟ کسی راجکمار کا ذہن و دل کیوں ابلے؟
معاشرہ ہم نے تشکیل کرناہے۔ تو ایسا معاشرہ کیوں نہ تشکیل کریں جہاں اخوت اور بھائی چارہ ہو۔ اظہار کی آزادی اور رائے کا احترام پایا جائے۔ مذہب ذاتی معاملہ ہو اور ہر فرد مذہبی آزادی اور برابر معاشرتی مواقع حاصل کر پائے۔
کوئی بھی “کافر کا بچہ” نہ ہو۔

2019-08-26T10:04:48+05:00 July 9th, 2016|Blog|