ایدھی صاحب کاش آپ ناکام ہو جاتے

->->

ایدھی صاحب کاش آپ ناکام ہو جاتے

ایدھی صاحب کاش آپ ناکام ہو جاتے

ایدھی صاحب کاش آپ ناکام ہو جاتے
(پیر سید مدثر نذر)
عبدالستار ایدھی چلے گیۓ۔ اپنا بوریا بسترا سمیٹے، اپنا کچا چٹھا لیۓ۔ پیچھے کچھ سوگوار اور بے شمار کوتوال چھوڑے جو دن رات اس فکر میں غلطاں ہیں کہ ایدھی صاحب کی بخشش کیوں کر ہوپائے گی؟ وہ اچھے مسلمان تھے یا پھر مسلمان بھی تھے؟ حرام کی اولادوں کو پنگوڑے دینے والا کس پائے کا جہنمی ہوگا؟ اور درحقیقت “مسافر” طلبہ کے “حق” کے پیسوں کو کافروں کے علاج معالجے پر لگانے والا کتنا بڑا فراڈیہ اور دھوکے باز شخص تھا۔
بیچارا ایدھی !
ہڈیاں گل گئیں اس قوم کی خدمت میں اور بعد از مرگ حقدار ٹہرا ان طعنوں اور تہمتوں کے تمغوں کا جو کسی بھی مہذب معاشرے میں بدترین فرد کو بھی نہیں نوازے جاتے۔
دین اور دین داروں کی مسافت کے اخراجات کی فکر میں غلطاں ٹھیکیدار سے کوئی تو پوچھے کہ اس نے پنگھوڑے سے ملنے والے ہر بچے کو حرامی کیسے کہا؟ کیا بچہ ایسی کسی ماں کا نہیں ہوسکتا جو بے روزگاری اور بھوک کے سبب جینے کی محال کشمکش میں غلطاں ہو؟ کیا کوئی ایسا باپ جو بالآخر خودکشی کا تحیہ کر چکا ہو لیکن اپنی جان دینے سے پہلے معصوم کی جان لینے کی ہمت نہ رکھتا ہو؟ اور فرض کر لیتے ہیں کہ ماں باپ بوجھ سمجھ کر گلے سے اتارنا بھی چاہتے ہیں تو کیا ضروری ہیکہ وہ گناہ کا ہی نتیجہ ہو۔ چلیں وہ بچہ جیسا بھی سہی تو ستارالعیوب کے کلمہ گو کیسےاس معصوم کو اس کے ناکردہ گناہ پر قابلِ نفرت اور قابلِ تذلیل القابات سے نواز رہے ہیں۔ جیسے تمام DNA کرواۓ بیٹھے ہوں۔ حضور سوچیۓ گا بھی نہیں!
خدا کب اپنے کلام میں گویا ہوا کہ ایک مسلمان کی جان بچاؤ۔ وہ تو انسان کی بات کرتا ہے۔ انسانیت کی بات کرتا ہے۔ اس کے کلام کو اپنا نظریہِ حیات قرار دینے والے شخص کے ایمان پر سوال اس لیۓ کہ وہ آپکے مسافر طلبہ کے طالبان بن کر پھٹنے کے نتیجےمیں چیتھرے ، لاشے اور کٹے اعضاء اور زخمیوں کو بلا امتیاز ہسپتال کیوں پہچاتا پھرتا تھا۔
ایدھی صاحب کاش آپ ناکام ہو جاتے۔
یہ وہ معاشرہ ہوتاجہاں آپ جیسے کسی کی ضرورت نہ ہوتی۔
ریاست ہر بھوکے، لاچار اور بیروزگار کی کفالت کی ذمہ دار ہوتی۔ علاج اور انصاف ہر فرد کی دہلیز پر میسر آتا۔ تعلیم اور ہنر کے زیور سے ہر فرد آراستہ ہوتا۔ مذہب کے ٹھیکدار درغہ بہشت نہ ہوتے۔ عالم ، علم تقسیم کرنے والے ہوتے دین کے واسطے دےکر چندے کی بھیک مانگنے والے نہ ہوتے۔ فیکٹریوں کی چمنیاں محنت اور خوشحالی کا دھواں اگلتیں۔ مدرسے سلطنت اور سود بخش مذہبی کارخانے نہ ہوتے۔ لوگ خدمت کو سراہنے والے ہوتے، خدا کے لہجے میں نہ بولتے۔ معاشرے میں اللّٰہ کا خوف ہوتا، اللّٰہ کانام پر افراد اپنا خوف نہ طاری کرتے۔ معصومیت گناہ اور ثواب کے ترازو میں نہ تولی جاتی۔
ایدھی صاحب! بیمار لاچاری کی حالت میں سڑک کنارے نہ پڑے ہوتے ، تو آپ کی معاشرے کو ضرورت کیا تھی۔ بھوکے پیٹ پچک کر سانس کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نہ ہو جاتے تو آپ کی ضرورت معاشرے میں کہاں تھی؟
ہر مشکل گھڑی، ہر مشکل جگہ اور ہر مشکل صورتحال میں ریاستی ادارے خود ایمرجنسی ریلیف اور حادثات کا مقابلہ کرنے کے اہل ہوتے تو آپکی 500 سے زائد ایمبولینسوں کی ضرورت ہمیں نہ ہوتی۔
جنس اور صنف کی تقسیم اور بنیاد کو سمجھے بغیر ارتقائی مراحل سے گزرتا معاشرہ بچے تو پالنوں میں پھینک دیتا ہے لیکن ان بچوں کو معاشرہ قتل ہونے سے بچا پاتا تو آپکے پنگھوڑوں کی ضرورت کیا ہوتی؟
یہ سب ویسا ہوتا۔تو کیوں کچھ ایسا ہوتا ؟
ایدھی صاحب آپ ناکام ہو جاتے۔ کسی کی بھی مدد کرنے میں کیونکہ کسی کو مدد کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔اور اے کاش کہ ایدھی صاحب آپ ناکام ہو جاتے۔

2019-08-26T10:04:17+05:00 July 16th, 2016|Blog|