لاشوں سے تعصب نہ برتیں

->->

لاشوں سے تعصب نہ برتیں

لاشوں سے تعصب نہ برتیں

(پیر سید مدثر شاہ)
جہاز حادثہ، 47 خاندان اجڑ گئیے۔ پوری قوم سکتے کے عالم میں مرنےوالوں کے بارے معلومات جمع کرتے سنتے ہوئے۔
میں نے سب سے پہلے ان تمام دوستوں کو فون کئے جن کا تعلق چترال سے ہے۔ کہ وہ تمام اور انکے احباب خیریت سے ہیں؟ اسی اثناء میں خبر آنے لگی کہ معروف گلوکار ، نعت خوان اور مبلغ جنید جمشید صاحب حادثے کا شکار ہوئے۔
پوری قوم کی طرح مجھے بھی دیگر تمام اموات کی طرح افسوس ہوا ۔ موسیقی سے مجھے کبھی کوئی بہت زیادہ شغف نہیں رہا۔ لیکن جنید جمشید کا نام تو موسیقی نہ جاننے والے بھی موسیقی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ ہمارے ایک عزیز دوست کا کہنا ہے کہ جنید جمشید کے جنت کی جانب سفر کی پہلی وجہ “دل دل پاکستان” بنے گا۔
حادثات بے شمار ہوتے ہیں ہم اس ملک کے باسی ہیں کہ جہاں گذشتہ بارہ سال میں قریباً اسی ہزار افراد دہشت گردی اور فرقہ واریت کا شکار ہوئے۔ ہر لاشہ اپنے پیچھے حزن وملال کی ڈھیروں داستانیں چھوڑ گیا۔
سوشل میڈیا پر جنید جمشید (اللہ ان کی مغفرت فرمائے) کیلئے بعد از موت جو منفی کلمات ادا کئے جا رہے ہیں ان سے ازحد تکلیف ہوئی۔
آپ فکر سے اختلاف رکھ سکتے ہیں۔ فرد سے نفرت جنگلی اور وحشی رویہ ہے اور وہ بھی ایک ایسے شخص کے ساتھ جو اپنی زندگی عالمِ شباب میں دین اور تبلیغ کیلئے وقف کر گیا۔
میرا تعلق کبھی بھی تبلیغی جماعت سے نہیں رہا۔ لیکن تبلغی جماعت کے وابستگان سے قربت رہی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ (ہزار “فکری” اختلافات کے باوجود) تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کا دعوت و تبلیغ کے ساتھ جڑنے کا مقصد صرف اور صرف دین کی دعوت اور مسلمانوں کو دین دار بنانے کے سوا کچھ اور نہیں۔
میں شاہد ہوں ایسے کئی انقلابوں کا جو تبلیغی جماعت کی محنت کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں برپا ہوئے اور ان کی شخصیت پر ایسی چھاپ چھوڑ گئے کہ ان افراد کی خوبصورت چھاپ معاشرے پر موجود ہے اور تادیر رہے گی۔ چوہدری ذیشان، عثمان حیدر اور کئی دوست جن کے تکلم سے لیکر زندگی گزارنے کے انداز کو نہ صرف دعوت و تبلیغ نے تبدیل کیا بلکہ وہ اپنی گفتار اور کردار کی چھلک سے معاشروں کو اثر انداز کر گئے۔ ایک صاحب فہیم سرور ہوا کرتے تھے (اللہ انہیں سلامت رکھے) کمال کا شخص تھا۔ میں ہمیشہ ان کے بارے میں کہتا ہوں کہ تبلیغی جماعت کی خوشبو کسی نے محسوس کرنی ہے تو ان سے مل لے۔
میرا جنید جمشید سے دور دور کا واسطہ نہیں نہ ہی کبھی کوئی ملاقات لیکن یہ جانتا ہوں کہ نبیِ کریم کی شان بیان کرنے والا تھا۔ اپنے فہم کے مطابق دین پر چلنے اور دین کی دعوت دینے والا تھا۔ زندگی گزار گیا اور زندگی جس کی عطا تھی اس کی جانب لوٹ گیا۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مرحوم کی کردار کشی کرے یا غلاظتِ باطن کا اظہار کرے۔
نفرتوں کی آگ سے جھلسا ہوا اس ارضِ وطن کا بدن مذید نفرتوں کا متحمل نہیں اور امن کے داعی ، محبت کی بات کریں تو اپنے اسلاف کے وارث ٹھہریں گے وگرنا شر پسندی کا لقب اختیار کرنے کو تیار رہیں۔

2019-08-26T10:12:48+05:00 December 8th, 2016|Blog|