زنجیر

->->

زنجیر

زنجیر

پیر سید مدثر نذر شاہ

خمار سر چھیڑتا چلا گیا۔ راگ بکھیرتا گیا۔ رنگ پھیل گئے۔ تمازت احساس میں گھل گئی۔ وسوسے مٹ گئے اور ندامتوں کے پہاڑوں میں گھری پیالہ نما وادی میں پرسکون اپنے آپ کو کھڑا پایا۔ ضد کا گھوڑا انا کے سوار کو لئے دور سر پٹ بھاگا جاتا دکھائی دے رہا تھا اور تنہائی میں ہجوم کی کیفیت کا شکار میں ہجوم و ہنگام میں یکتا ہوتا چلا گیا۔
تصور میں ایک وجود مسکراتا موجود پاؤں کی زنجیر بنا جارہا تھا۔ محفل اپنے شباب کی جانب بڑھ رہی تھی۔ قہقہے بکھرتے ، جسم تھرکتے ، مسکراہٹیں اور شرارتی فقرے محفل کو رنگین کررہے تھے۔
میں نے زنجیر کو ہلکا سا جھٹکا۔ زنجیر کی کھنک سے سے لاڈ بھری آواز آئی “ناں”
میں نہیں توڑ رہی یہ بندھن
زنجیر کی کھنک لاڈ کے ساتھ اختیار کا بھرم سمیٹے ہوئی تھی۔
مجھے جسم کی حدت بے چین کئے جارہی تھی۔ ہونٹ کہ کپکپا رہے تھے۔ شانوں پر تناو سا طاری ہورہا تھا۔
جنھجلاہٹ
مجھے زنجیر سے الجھن ہورہی تھی۔
تم کوئی حسینہ عالم نہیں ہو۔
ہاں ! نہیں ہوں
تم میری کون ہو ؟
پتہ نہیں
میں نے کبھی کسی جذبے کا اظہار کیا؟
نہیں
تم نے؟
نہیں
ہمارے درمیان کوئی وعدہ ؟
نہیں
تو مجھے کیوں روک رہی ہو؟
میں نے کب روکا؟
تمھارے ہوتے میں قدم بڑھا نہیں پا رہا !
تو مجھے اتار دو۔
نہیں اتار سکتا۔
کیوں؟
تم مجھے عزیز ہو
اچھا؟؟؟
ہاں!
تو پھر شکوہ کس بات کا ؟

2019-08-27T01:21:41+05:00 December 29th, 2018|Blog|