ماں کہتی ہے

->->

ماں کہتی ہے

ماں کہتی ہے

پیر سید مدثر نذر شاہ

کیسے ہو میرے بچوں ؟
کیا ہو رہا ہے آجکل؟
صبح شام دن رات تمھاری فکر میں غلطاں رہتی ہوں۔ رب سے تمھاری خیر مانگتی ہوں۔ جانتی ہوں کہ تم بھی مجھ سے ڈھیروں پیار کرتے ہو۔ کم از کم کہتے تو ایسا ہی ہو۔
میں تمھاری ماں ہوں۔ تم سب کی ماں
دھرتی ماں !
میرا جنم کب کیسے کیوں ہوا یہ پتہ نہیں کیوں تمھارا موضوع تحقیق نہیں موضوع اختلاف ہی رہا سدا۔
میں نے سردیاں جھیلیں۔ گرمیوں کی تمازت برداشت کی۔ بہار کے رنگ اپنائے اور خزاں تھپیڑے برداشت کئے۔
سینہ چیر کر تمھاری بھوک مٹائی اور کبھی تمھاری آنکھ بند ہونے پر تمھیں وجود میں سمیٹ لیا۔
تم مجھے پر جنمے ، مجھ پر پلے ، مجھ پر جوان ہوۓ اور مجھ پر میرے ہی نام پر لڑتے ہو؟
میرا وجود اپنے اپنے حصوں میں بانٹتے ہو اور پھر میرے ہی وجود کے اپنے اپنے حصے کے تحفظ میں دوسرے حصے کو چھلنی چھلنی کر دیتے ہو!
تم جانتے ہو کہ مجھے کیسا لگتا ہے؟
کتنی جلن ہوتی ہے؟
کتنی تکلیف ہوتی ہے؟
اور کیا جانتے ہو کہ سب سے بوجھل لمحہ کونسا ہوتا ہے؟
وہ کہ جب تم ایک دوسرے کے لہو سے میرا وجود لال کرتے ہو
کیا ایسے بھی ہوتے ہیں ماں کے لعل؟
کیا ماں دیکھ سکتی ہے ایک بچے کو فتح کا جشن مناتے اور دوسرے کے گھر ماتم ہوتے؟
کیا ماں جس نے تمھیں کلکاریاں کرتے دیکھا ہو وہ دیکھ سکتی ہے کٹے پھٹے وجود کو سفیدچادر میں لپٹے؟
مجھے تم عزیز ہو ! تمھیں میں عزیز کیوں نہیں ؟
میری جان ! میری جان پر اور ظلم نہ کرو
میرے وجود پر اپنے وجود سے کلکاریاں کرو اسے اپنے لاشوں سے بوجھل نہ کرو۔
اب تو سنا ہے کہ تم مجھے سدا کیلئے بانجھ بنانے کا منصوبہ بناۓ بیٹھے ہو !
صدیوں کا سفر طے کر کے تم تک آئی ہوں ، تمھیں بھی تمھارے بڑوں کی طرح جنم دیا ، پالا ، کھلایا، بڑا کیا۔ اب تمھاری آنے والی نسلوں کو بھی چہچہاتا دیکھنا چاہتی ہوں۔ مجھ سے یہ خوشی نہ چھینو !
مجھے سبز چوغا اچھا لگتا ہے۔ ہریالی والا
ماں کی چھاتی سے اولاد کو خوراک دینے والی راحت لئے ہوۓ۔
مجھے لال چادر سے نفرت ہے۔ یہ تمھارے لہو کی بُو سے سَنی ہوئی ہوتی ہے۔
مجھے تم ناچتے گاتے، خوشیاں مناتے، چہچہاتے اچھے لگتے ہو۔
رنگ بکھیرو، تان چھیڑو، راگ الاپو، جشن مناؤ
مجھے اور خون نہ رلاو۔ مجھے مذید لاشے نہ دکھاؤ۔ مجھے ماتم نہ کرواو
میرے بچوں ! میں تمھاری ماں ہوں اور ماوں سے ایسا سلوک نہیں کرتے

2019-08-27T01:07:51+05:00 February 28th, 2019|Blog|