ہم بھی سفارتکاری کیوں نہ کریں؟

->->

ہم بھی سفارتکاری کیوں نہ کریں؟

ہم بھی سفارتکاری کیوں نہ کریں؟

پیر سید مدثرںذرشاہ

بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد قومی و ملکی مفادات ہوتے ہیں۔ جذبات کم ہی اثر رکھتے ہیں۔ ہماری ساری جذباتی قوم بھارت کی موجودہ سفارتی کامیابیوں پر بے چین ہوئی بیٹھی ہے۔ سوشل میڈیا جہاد پر زور ہے۔
انڈین سفارتی کامیابی ؟ جی بالکل ! اس سے بڑی کیا کامیابی ہوگی کہ گجرات کا تمغہ سینے سجاۓ مودی صاحب امارات کا اعلی ترین اعزاز لے گئے اور وہ بھی اس وقت جب کشمیر پر الاو گرم کر رکھا ہے انہوں نے۔
بھارت اس موقع پر بڑے آرام سے مسلۂ کشمیر کو بین الاقوامی برادری میں مذہبی اقلیت کے معاملہ نہ ثابت کرتے ہوۓ وزیراعظم کو مسلمان ملکوں کے دورے پر دورے کرواۓ جا رہا ہے اور وہاں مضبوط بھارتی معیشت کے کمال جلوے دکھاتے پھر رہے ہیں اور ہم یہاں خامخواہ میں کڑھ رہے ہیں۔
وجود منوانے کا جی چاہ رہا ہے؟ تو جناب بلوا لیں ایران اور اسرائیل کے وزراۓ خارجہ کو اسلام آباد ۔
بیٹھ جائیں دونوں کے ساتھ الگ الگ اور پھر دونوں کے ساتھ اکٹھے۔
دیکھیں منظر نامہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔
اسرائیل پاکستان میں۔ اسرائیل اور ایران رابطہ پاکستان کے ذریعے۔ امریکی مذاکرات طالبان سے۔ چین کا اسرائیل سے کاروباری حجم۔ اسرائیل کا امریکہ پہ اثر و رسوخ
یہ چھوٹے نقطے نہیں۔ بلکہ کئی چھوٹے چھوٹے نقطوں کے ساتھ منظر کشی کی جاۓ تو تصویر بڑی اعلی بنے گی۔
جنہیں ہوشیار کرنا ہے وہ ہوشیار ہو جائیں گے۔ جنہیں اپنے سفارتی آپشنز دکھانے ہیں وہ بھی دیکھ لیں گے۔
رہا اسرائیل تو تسلیم کرنا نہ کرنا بعد کی بات۔ گفتگو تو شروع کریں۔ ایران اسرائیل میں بھی بات کروائیں۔ ماضی میں چین اور امریکہ کے درمیان بھی تو سہولت کاری کر چکے ہیں۔ اور کامیاب بھی رہے۔ اب بھی کرنے میں کیا حرج ہے۔
کشمیر پر جب بھارت سے بات ہو سکتی ہے۔ مذاکرات کو آخری آپشن مانا جا سکتا ہے تو فلسطین پر اسرائیل سے بات کیوں نہیں ہو سکتی۔ ایران کی بات کیوں نہیں کروائی جاسکتی۔
فلسطین پر عربوں کی بجاۓ ایران کو فریق تسلیم کر کے اسے اسرائیل کے ساتھ میز پر کیوں نہیں بٹھایا جاسکتا ؟ اور اور اور۔۔۔ بہت کچھ
پھر کہوں گا کہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد قومی و ملکی مفادات ہوتے ہیں۔
ایران کو بات سمجھانا کیا مشکل؟ وہ بھی جنگ نہیں چاہتے۔ مسائل ہیں تو ان کو حل کرنے کیلئے گفتگو شروع کی جاسکتی ہے کروائی جاسکتی ہے۔ پاکستان اہم ہو جاۓ گا۔ سفارت کا جواب سفارت سے دیں۔ اپنے آپشن کھلے رکھیں اور وسعت دیں۔ آپ کا اسرائیل کے ساتھ رابطہ ہی کافی ہے اس کو خطے میں محتاط کرنے کو۔ ویسے بھی عرب سارا بچھا پڑا ہے اسرائیل کے سامنے۔ خطرہ اس کیلئے ایران ہے۔ اس خدشے کو کم کرنے میں ہم مدد کرتے ہیں تو خطے کی سیاست بالکل مختلف رخ اختیار کر جاۓ گی۔
سوچئیے ! سوچنا تو منع نہیں ابھی

2019-08-26T10:12:03+05:00 August 25th, 2019|Blog|