امریکہ امریکہ ہے

->->

امریکہ امریکہ ہے

امریکہ امریکہ ہے

پیرسیدمدثرنذرشاہ

امریکہ پر پاکستان میں ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آتے ہیں۔ عوام خطے کی بلکہ دنیا کے سارے فساد کی جڑ امریکہ کو گنتے ہیں اور امریکہ جانے کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ خواص دن رات امریکہ کی اچھائیاں بیان کرتے نہیں تھکتے۔ یہ عجب محبت اور نفرت کا رشتہ پال رکھا ہے ہم نے امریکہ کے ساتھ۔
بربادی کاالزام دینا تو امریکہ
جانے کی حسرت کرنی تو امریکہ
اس کے اسباب پر غور کیا جاۓ یا آسان انداز میں دو باتوں پر غور کیا جانا چاہئے۔
چلیں پہلے حسرتیں شمار کر لیتے ہیں۔ کہ امریکہ اتنا پرکشش کیوں ہے۔
امریکہ کی معیشت بہت تگڑی ہے
امریکہ کا نظام بہت مضبوط ہے
امریکہ میں قانون موجود اور سب کیلئے برابر ہے
امریکہ ایک بڑی جمہوریت ہے۔
امریکہ محفوظ ہے یا محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے
امریکہ کی سرحدیں محفوظ ہیں۔
امریکہ اتنی بڑی قوت ہے کہ کوئی اس پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
امریکہ میں تعلیم اور صحت کی اعلیٰ ترین سہولیات دستیاب ہیں۔
امریکہ میں ترقی کے مواقع سب کیلئے دستیاب ہیں
اب ذرا برائیوں کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔
امریکہ خود سر ہے۔
امریکہ سازشی اور جنگجو ہے
امریکہ کو صرف اپنے مفاد سے غرض ہے
امریکہ جنگیں کرتا ہے
امریکہ جنگیں کرواتا ہے۔
امریکہ مسلمان دشمن ہے
امریکہ اسرائیل کا سرپرست ہے
امریکہ ایران کا مخالف ہے
امریکہ نے عراق تباہ کر دیا
امریکہ مسلمانوں کا قاتل ہے۔
اور بھی ڈھیروں ڈھیر الزام جو ہم دوستوں کی گپ شہ سے حجامت بنوانے تک اور جلسوں کی تقریروں سے اخباری بیانات تک کہتے، بولتے، سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔
مجھے جو تھوڑا بہت امریکی معاشرے، ریاست اور انکے نظام کو دیکھنے سمجھنے کا موقع ملا اور اس سے جو میں سمجھ پایا وہ آپ سے شئیر کر دیتا ہوں۔
امریکہ ایک نہیں دو ہیں
ایک امریکہ امریکی سرحدوں کے اندر اور ایک امریکہ امریکی سرحدوں کے باہر
امریکی سرحدوں کے اندر کا امریکہ وہ جنت ہے جہاں رہنے بسنے کا خواب لاتعداد افراد دیکھتے ہیں اور لاکھوں ہر سال اس سماج کا حصہ بنتے ہیں۔
جہاں امن ہے۔ مساوات ہے۔ جمہوریت ہے۔ مواقع ہیں۔ ترقی ہے۔ سہولیات ہیں۔ نظام ہے۔ جدت ہے۔ آزادی ہے۔ رونق ہے۔ کاروبار ہے۔ صحت ہے۔ صفائی ہے۔ اور وہ ملک اس قدر پر کشش ہے کہ ہمارے یہاں سخت امریکہ مخالف طبقات اور جماعتوں کے جو لوگ وہاں آباد ہیں وہ اس کا پاسپورٹ ترک کرنے پر ہرگز آمادہ نہیں۔
اسی طرح ایک امریکہ جو امریکی سرحدوں سے باہر ہے وہ اکھڑ ہے۔ ڈنڈے مار ہے۔ مست ہے۔ مفاد پرست ہے۔ وغیرہ وغیرہ
لیکن صاحب ! کیوں ہے؟
امریکہ کی ریاست پورے جہان میں صرف اپنے شہری کے ساتھ مخلص ہے۔ اسے آنچ نہ آۓ۔
جمہوریت کے نام پر یا بادشاہت کے نام پر دوستی کر کے یا دشمنی۔ وسائل سمیٹ کر یا احباب کے بقول لوٹ کر لے جاتے وہ اپنے ملک ہی ہیں۔ اپنے لوگوں کیلئے۔
تو کیا برا کرتے ہیں؟
کون ایسا نہیں کرتا ؟ بلکہ کہنا چاہئے کہ کس نے ایسا نہیں کیا ؟
ہر وہ راج جو مضبوط ہوا، مستحکم ہوا،پائیدار ہوا وہ اپنی سرحدوں کے اندر رہنے والوں کا سگا تھا۔
سجے کبھے کے چاچے مامے لوگوں کی شادیاں ولیمے بھگتا تے کنوارے ہی مر جاتے ہیں۔
امریکہ کی کامیابیوں کی ڈھیروں وجوہات ہونگی۔ لیکن سب سے بڑی کہ ریاست اپنے شہری کے ہر مفاد کا تحفظ کرنا یقینی بناتی ہے اور اس کے لئے اپنی سرحدوں سے پار اسے کچھ کرنا پڑے وہ کر گزرتی ہے۔ عراق کے لوگوں کو جمہوریت دینے کیلئے فکر مند امریکہ عراق سے جڑے ملک کی بادشاہت کا تحفظ کرتا ہے کیونکہ بقول انکے صدر “King has the money”
برما اور چائنا کے مسلمانوں کیلئے دن رات خون جلانے والا امریکہ فلسطین اور اسرائیل کو دیکھ ہی نہیں پاتا
لیکن مشرق سے مغرب تک دندناتا اسکا صدر دن رات کوشش میں ہے کہ امریکہ میں لوگوں کو نوکریاں زیادہ سے زیادہ ملیں۔
امریکہ سفارت کاری کا بھی بادشاہ ہے۔ دور دور تک کوئی مقابل نہیں اسکا۔
اسکے سوشل پروگرام ، اسکے تعلیمی وظائف ، سماجی رابطے ، معاشی رابطے ،غرض کہ کمال !
پاکستان کی ہی مثال لے لیں۔ اس قدر مضبوط سفارت قائم کر رکھی ہے کہ جیسے ہی چائنا سے میچ پڑا چین کو سفارتی محاذ پر چاروں خانے چت کر گیا۔ خطے میں دیکھیں تو ایران سے خامخواہ کی دشمنی پال کر اسے عرب ریاستوں کے لئے ہوا بنا رکھا ہے۔ اور اس خوف کا خراج دونوں ہاتھوں سے وصول کرتا ہے۔
امریکہ آئی فون سے لیکر کروز میزائل تک کا بیوپاری ہے اور اس کی فروخت بڑھانے کیلئے وہ مارکیٹ پیدا کرتا رہے گا۔ اور اس تجارت کا فائدہ براہِ راست وہ اپنے شہری کو پہنچاتا رہے گا۔ اور کامیاب ہونے کا گر بھی یہی ہے شاید کہ ریاست صرف اپنے شہری کیلئے مخلص ہو جاۓ اور باقی دنیا کیلئے ڈھیٹ۔ ترقی ، قوت، اور اثر سب حاصل ہو جاتا ہے۔
تاریخ کے پنے پرت کر دیکھ لیں ہر مضبوط ریاست ویسے ہی قائم رہی جیسے آج امریکہ ہے۔

2019-08-27T00:31:29+05:00 August 27th, 2019|Blog|