فلسطین

->->

فلسطین

فلسطین

پیر سید مدثر نذر شاہ

پہلی جنگ عظیم کے بعد لٹے پٹے یہودیوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کرنا شروع کیا ان میں زیادہ تر روس اور یوکرائن کی طرف سے آۓ اور پہلے سے موجود قبیلوں نے انہیں آباد ہونے میں مدد دی۔ سلسلہ چلتا رہا اور دوسری جنگ عظیم سے پہلے اس عروج پر پہنچا کہ حکومت برطانیہ نے یہودیوں کے داخلے پر خاصا ٹیکس لگانا شروع کردیا۔ دوسری جانب یہودیوں کی تنظیموں اور جماعتوں نے تعلیم صحت اور دفاع کے شعبوں کو مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ اور جنگ میں برطانیہ کا ساتھ دے کر اپنی اہمیت بھی منوائی۔
اس بات کو مختصرا ہی دوہرا تے ہیں کہ اس دوران وہ مقامی فلسطینیوں یا عربوں سے ان کی زمینیں خریدتے رہے۔
اقوام متحدہ نے اس قطعہ ارض پر یہودی اور عرب ریاست کا فارمولہ دیا اور یروشلم کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں رکھنے کا منصوبہ۔ جسے اسرائیل نے تسلیم کر لیا لیکن عربوں نے یکسر مسترد کر دیا اور اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اس پر ہلا بول دیا۔ جنگ ہاری علاقہ گنوایا اور ہار کے غم و غصے میں جلتے رہے۔
اب اس سے یہ مراد قطعا نہیں کہ خطے کےتمام عرب اور مسلمان اسرائیل کے خلاف تھے۔ کئی عرب مسلمان و غیر مسلم قبائل اور کئی غیر عرب مسلمان نا صرف روز اوّل سے اسرائیل کے ساتھ تھے بلکہ عرب اسرائیل جنگوں میں انہوں نے اسرائیل کی طرف سے جنگ میں حصہ بھی لیا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد ریاستیں تیزی سے وجود میں آئیں اور جغرافیہ تبدیل ہوا۔ بین الاقوامی محرکات سے ہٹ کر علاقائی وجوہات سیاسی و سماجی بنیادوں پر ان تبدیلیوں کے ساتھ جوڑی گئیں۔
برصغیر میں جیسے مذہب کی بنیاد کو وجہ تقسیم تسلیم کر لیا گیا اسی طرح عرب اور اس جڑتے افریقی خطے میں عرب قومیت کی لہر آئی۔ مطلق العنان حکمرانوں نے عوام میں شناخت و زبان کا تعصب اپنے مقاصد کی تکمیل اور مفادات کے تحفظ کیلئے ابھارا اور اسی لہر کے چلتے عربوں کی اسرائیل سے دوسری جنگ ہوئی جسے چھ دن کی جنگ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اس جنگ کا نتیجہ بھی پچھلی جنگ سے مختلف نہ تھا اور فائدہ و نقصان بھی فریقین کیلئے پچھلی جنگ کی طرح ہی حصے آیا
یہ عرصہ عرب قومیت کا دور تھا۔ اسلئے اس تنازعہ کو عرب اسرائیل تنازعے کے نام سے ہی یاد رکھا جاتا ہے
پاکستان نسبتا اس خطے سے دور اور اسلام کے نام پر بنے والے ملک کی حیثیت سے معاملے کو یہودی اور مسلمان کے پس منظر میں دیکھتا دکھاتا رہا۔
تیل کی دریافت ، مطلق العنان بادشاہتیں اور آمریتوں نے اندرونی کشمکشوں سے نمٹنے کیلئے سپر پاورز سے ہتھیار خریدنا شروع کر دئیے اور انہیں لگا کہ وہ سپر پاورز سے دوستیاں گانٹھ رہے ہیں۔ حالانکہ سائل و ساہوکار میں یارانا نہیں ہوتا صرف سودا ہوتا ہے۔
اندرونی بغاوتوں کے بعد ساہوکار نے اسرائیل کا ڈر بیچا اور عربوں نے دو جنگی تجربات کے نتائج دیکھتے ہوۓ دھڑادھڑ خریداری شروع کر دی۔
اب سرد جنگ کا گرم میدان سجتا ہے۔
مذہب کی ضرورت پڑتی ہے
مذہب پسندوں کی موجود کھیپ سمیٹ کر میدان جنگ کے ساتھ واقع بیس کیمپ میں شفٹ کی جاتی ہے اور عرب قومیت کا چغہ مذہب کے جبے سے تبدیل کر کے کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں۔
اس سے قبل ایک واقعہ اور رونما ہو چکا
کہ جب اردن میں فلسطینی مہاجرین کا قتل عام ہوا۔ وہ واقعہ بتا گیا کہ فلسطین اور فلسطینی اپنے اس ہمساۓ کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں۔
افغانستان کی جنگ میں اسرائیل بھی شامل رہا اس دوران ایک فرئنچائز کے تمام سٹیک ہولڈرز دوسری فرئنچائز کے خلاف متحد ہو گئے۔
اس دوران ایران میں آنے والی سیاسی تبدیلی کو اپنے وجود کو مذہب سے جوڑے رکھنے کیلئے مضبوط مذہبی نعرے اور جذبے جوان رکھنے کیلئے ایک تگڑا مقصد بھی درکار تھا تو ایران اپنے سے ملکوں دور عربوں میں گھرے اسرائیل کو دشمن مان بیت المقدس کی آزادی کو انقلابیوں کا خون گرمانے کا نعرہ بنا چکا۔
مسلکی نقطہ نظر سے ملکوں میں موجود تحریکوں کو دبانے کیلئے عربوں نے ایران اور ایرانی انقلاب کو مسلکی رنگ میں نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ایرانی انقلاب بھی اپنے “دفاع” میں مشغول ہوگیا۔
چونکہ ساہوکار کو دوسرے ساہوکار سے لڑنے کو مذہب کی ضرورت تھی تو اس عالمی ضرورت کہ اب جسکا اعتراف محمد بن سلمان کھل کر چکے ہیں، کےتناظر میں علاقائی سطح پر مذہبی رنگ کو مسلکی تڑکا بھی لگنے لگا۔ اور ایران اور عربوں کی چپقلش نے وہ فساد برپا کیا کہ جس کے لاشے آج بھی ملکوں ملکوں اٹھاۓ جا رہے ہیں۔
فلسطین کے مسلے کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہوا۔ عرب قوم پرستی کا دور ختم ہوا اور مذہب کی مقدس جنگ لڑنے کو نیا دشمن موجود تھا اور میدان بھی۔
جیسے عربوں نے ایران کی بغل میں میدان سجایا ویسے ایران عربوں کے درمیان جا پہنچا۔
اب ایران فلسطین کے مسلے کا فریق تھا۔ اور چونکہ ایران عجم سے ہے تو اسرائیل کے ساتھ تنازعہ عرب سے ایران ۔اسرائیل تنازعے کا ٹائٹل اختیار کرتا چلا گیا۔
ایران نے خطے میں آہستہ آہستہ اثر قائم کیا اور اپنی اہمیت منوائی۔
پھر آئی عرب بہار ، رہی سہی کسر پوری ہوگئی۔
مضبوط معیشتیں تباہ ہو گئیں۔
اقدار ختم ہی نہیں ہوۓ کہیں کھو ہی گئے۔
بچے کچے چمن نے اپنی عافیت اسی میں جانی کہ بہار کا خراج دینے سے بہتر کہ محکمہ موسمیات کے بتاۓ راستے پر چلا جاۓ۔
تو اب فلسطین جس خطے میں آباد ہے وہ اسے بھلاۓ بیٹھے ہیں۔ جو اس کے لئے جنگی جنون کا شکار ہیں وہ اس کے قریب جانے سے بھی قاصر۔
اسرائیل کو بظاہر 1948 والی پوزیشن پر لے جانا ناممکن لگتا ہے۔
محمد بن سلمان کی یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کو اپنے وجود قائم رکھنے کا حق ہے اور ہونا چاہئے۔
اس وقت مصر ترکی اور پاکستان ایسے ممالک ہیں جو اس مسلے میں کردار ادا کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات لطیفہ لگتی ہے؟
کشمیر کے معاملے پر جھڑپیں تو ہو سکتی ہیں جنگ نہیں۔ جنگ دونوں افورڈ نہیں کرتے اور انکو لڑانا یا لڑنے دینا بھی کوئی افورڈ نہیں کرتا۔
کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے۔ لیکن فلسطین کسی کی شاہ رگ نہیں۔ اس لئے فلسطین کے مسلئے کا کوئی حل نکلنا ضروری ہے یا کم از کم اس سمت میں
چلنا۔

2019-08-30T16:04:23+05:00 August 30th, 2019|Blog|