لنگر

->->

لنگر

لنگر

پیر سید مدثر نذر شاہ

لنگر مفت میں بٹتا ضرور ہے بنتا نہیں۔
فیشن بن چلا کہ اور کچھ ہاتھ پلے نہ آۓ تو تنقید کردی جاۓ۔ اور خود کو خود روشن خیال مان کر ایک کش لگاتے دھواں اگلتے پسماندہ (متصور) لوگوں کے حال پر ترس کھاتے اظہار افسوس کا ثواب بھی کما لیا جاۓ۔
صوفی لفظ پر چل پڑنے والی ایک گفتگو میں کہا گیا کہ مفت کا لنگر کھا لیا اور بس بن گئے صوفی۔
لنگر کبھی نہ مفت کا ہوا تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔
لنگر مفت میں بانٹا جاتا ہے۔ مفت میں بنتا نہیں۔
جو لوگ لنگر کو مفت کا سمجھتے ہیں ان سے درخواست ہے کہ وہ لنگر کا اجراء فرمائیں یا پھر کم از کم چند دن لنگر بننے اور بٹنے کا حصہ بنیں۔ انہیں خوب اندازہ ہوگا کہ یہ عمل کتنا مشقت طلب ہے اور اس میں کس قدر وسائل درکار ہوتے ہیں۔
لنگر ہے کیا؟ آستانے ، درگاہ یا مزار پر زائر یا سائل کوپیش کی جانے والی خوراک
بلا شبہ لنگر مفت کا ہوتا ہے۔
آپ تشریف لائے۔ آپ کون ہیں۔ آپ کا سماجی مقام و مرتبہ کیا ہے۔ آپ مذہب و مسلک کیا ہے۔ آپ کی آمد کی غرض کیا ہے۔ اس سے غرض رکھے بغیر آپ کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
کیوں ؟ کیونکہ کسی بھی خدمت کا آغاز بھوک کے مسلئے کو حل کئے بنا ممکن نہیں۔ خانوادے ریاست نہیں کہ ریاست کی جگہ پالیسی بنائیں اور ریاست کی ذمہ داریاں پوری کریں لیکن اپنی محدودیت میں اس مسلئے کو فوری توجہ دی جاتی ہے۔
کبھی کسی نے کوشش کی یہ جاننے کی اس میں کس قدر مشقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں؟
اپنے گھر آنے والےدس مہمانوں کے کھانے کے اخراجات اور انتظامات پر نگاہ ڈالیں اور اب عبداللہ شاہ غازی سے سائیں سہیلی سرکار تک آستانوں ، خانوادوں اور مزارات کی تعداد اور تین وقت کے لنگر کے انتظامات پر بھی نگاہ ڈالیں۔
لنگر لوگوں کے پیسے پر ہوتا ہے۔ اچھا؟
کیا روز اس بڑی تعداد میں لوگ لنگر کیلئے پیسے دیتے ہیں؟ چلیں اس بات کو دو لمحے کیلئے من وعن مان لیتے ہیں۔ تو بھی دو نتائج سامنے آتے ہیں کہ صدیوں سے لوگوں کا اعتماد خانوادوں پر بحال ہے اسی لئے شرکت contribution کا سلسلہ کبھی تھما نہیں
دوسرا صوفیوں نے صدیوں سے لوگوں کے دئیے مال کو اسی مقصد کیلئے استعمال کیا کہ جس کیلئے وہ دیا گیا تھا۔
کہیں لنگر کیلئے چندے کا بینر لگے دیکھا ؟ کہیں ہاتھ میں رسید بک پکڑے کبھی کوئی خوش گفتار کسی آستانے کے لنگر کیلئے چندہ مانگتا دکھائی دیا۔ آستانوں پر ترغیب دیتی کوئی گفتگو یا سرگرمی ؟ صاحبان سجادہ یا منتظمین کے علاوہ کسی کو لنگر کے انتظام کیلئے پریشان ہوتے دیکھا ؟ کبھی کسی نے ایسا سنا دیکھا ہو کہ وہ کسی آستانے خانوادے یا مزار پر گیا ہو اور کہا جاۓ کہ آج “چندہ” نہیں ملا تو لنگر نہیں بن پایا۔
ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ جو لوگ عملی یا مالی طور پر لنگر میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں انکی اس خدمت کو قبول کیا جاتا ہے۔ اسے رد نہیں کیا جاتا
درباروں پر موجود گلے بھی صرف اس لئے رکھے جاتے ہیں کہ کوئی اٹھائی گرا ہاتھ نہ صاف کر جاۓ۔
کچھ عرصہ قبل ترکی میں شیخہ نور سے پوچھا تھا کہ تصوف کیا ہے ان کا یک لفظی جواب تھا “خدمت”
ایک مرتبہ میں اور چند دوست پیر مزمل شاہ صاحب سے ملنے گئے شاید مزاج پرسی کرنے۔ چائے لا کر رکھی گئی۔ ہم نوجوان تھے اٹھے کہ خود بھی ڈالیں اور شاہ صاحب کو بھی پیش کریں لیکن نقاہت کے باوجود انہوں نے ہمیں منع کردیا اور خود چاۓ ڈال کر ہمارے سامنے پیش کی۔ کہا کہ بس اتنا تو موقع میسر ہوتا ہے مہمانوں کی خدمت کا۔ اب وہ بھی میں خود نہ کروں۔
ایک خانوادے سے تعلق ہے۔ خوب جانتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے اور کیسے نبھانی ہے۔ مطبخ سے زیادہ لنگر خانے کی فکر رہتی ہے۔
دعوت عام ہے صاحبان۔ لنگر کے انتظام میں شامل ہو جائیں۔ کسی بھی خانوادے کے۔ صبح سے رات اور پھر رات سے صبح تک۔ کیوں کہ زائر و سائل کی آمد کا کوئی وقت مقرر نہیں اسی طرح اس کی خدمت کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں۔
تو آئیے اس ذمہ داری میں ذرا چند دن ہمارا ہاتھ بٹائیے۔
آج جب بھائی بھائی کا گوشت نوچتا ہے۔ عزیز ایک دوسرے کا غم کھانے سے دور بھاگتے ہیں۔ دوستیاں فیس بک اور وٹس ایپ تک محدود ہو کر رہ گئیں ہیں۔ یقین جانیں لوگوں کو جانے بغیر ان کے سامنے دسترخوان بچھانے کا بہت لطف آۓ گا۔ ٹھنڈا پانی پلانے کا۔ گرم روٹیاں لگوانے کا پھر دسترخوان پر لا لا کر دینے کا اپنا ایک مزا ہے۔
اور جب اختتام پر کھانے والا کہتا ہے شکر الحمدللّٰہ !
اپنے وجود کے ہونے کا جواز مل جاتا ہے صاحبان

2019-08-31T12:13:04+05:00 August 31st, 2019|Blog|