فلسطین (2) مغربی کنارا West Bank

->->

فلسطین (2) مغربی کنارا West Bank

فلسطین (2) مغربی کنارا West Bank

پیر سید مدثر نذر شاہ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ فلسطین کا علاقہ ہے۔ لیکن دو ہزار سولہ کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں آباد تیس لاکھ افراد میں سے تقریباً بیس فیصد یہودی ہیں۔ جو اسرائیلی یہاں رہتے ہیں وہ آباد کار کہلاتے ہیں۔ وہ رہتے مغربی کنارے (West Bank) میں ہیں لیکن شہری اسرائیل کے ہیں۔
یہاں دہائیوں سے دو بالکل مختلف قومیں آباد ہیں جو آپس میں شدید تنازعے کا شکار ہیں۔
پہلے بھی بات ہو چکی کہ 1948 میں یہودیوں اور مسلمانوں کی بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اس خطہ ارض کو دو ملکوں میں تقسیم کرنے کا فارمولہ دیا تھا۔
اسرائیل ، یہودیوں کیلئے اور فلسطین عربوں کیلئے۔
یہودیوں نے اس تقسم کو قبول کرتے ہوۓ اسرائیل کی آزادی کا اعلان کر دیا لیکن خطے کے عرب ملکوں نے اسے یورپی آبادکاری کی ایک نئی کوشش سمجھتے ہوۓ مسترد کرتے ہوۓ اسرائیل پر حملہ کردیا۔
اسرائیل نے جنگ جیت لی اور اقوام متحدہ کے مجوزہ فلسطین کو اپنی سرحدوں میں سمیٹ لیا۔ مذاکرات میں جنگ بندی کی لائین مقرر ہوئی جو سبز لکیر (Green Line) کہلائی۔
اس میں طے ہوا کہ اردن کے ساتھ ملحقہ خطہ اردن کے زیر انتظام رہے گا۔ اردن نے اس نئے خطے کو مغربی کنارا (West Bank) کا نام دیا کیونکہ کہ یہ دریائے اردن کے مغرب میں واقعہ ہے۔ یہ صورتحال 1967 تک برقرار رہی کہ جب اسرائیل کی ہمسائیوں سے ایک اور جنگ نہ ہوئی۔ اور اس چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے پہلے سے کہیں زیادہ رقبے پر قبضہ کر لیا۔ جس میں پورا مغربی کنارے کا علاقہ شامل تھا۔
اسرائیل میں اس فتح کے بعد نئی بحث نے جنم لیا
نمبر ۱-کیا مغربی کنارے کے علاقے کو اسرائیل میں شامل کر لیا جاۓ ؟ اور وہاں رہنے والا گیارہ لاکھ عربوں کو اسرائیلی شہریت دے دی جاۓ ؟
نمبر ۲۔ زمین اردن کو واپس کردی جاۓ۔
نمبر ۳۔ لوگوں کو انکی اپنی ریاست فلسطین قائم کرنے دی جاۓ
بہت سے اسرائیلیوں نے اس فتح کو مذہبی بشارت سے تعبیر کیا کہ جو یہودیوں کی انکی آبائی زمین اور سامرہ کی پہاڑیوں پر آمد سے متعلق تھی جو تمام مغربی کنارے میں تھیں
ابھی اسرائیلی حکومت اس سوچ بچار میں ہی غلطاں تھی کہ کیا کیا جاۓ۔ اسرائیلی عوام نے مغربی کنارے میں آباد ہونا شروع کردیا اور اس خطے میں یہودی موجودگی بڑھنا شروع ہو گئی۔
ساری دنیا نے اس کی مخالفت کی اور اسے اقوام متحدہ نے غیر قانونی گردانا
اس موقع پر دو موقف سامنے آۓ
ایک۔ کہ اسرائیلی آبادکار ان غیر آباد خطوں میں آباد ہورہے ہیں کہ جنہیں انکے ملک نے جنگ کے بعد فتح کیا ہے
دوسرا موقف جسے دنیا بھر کی حمایت حاصل رہی کہ یہ آباد کاری اس زمین پر ناجائز قبضہ ہے
لیکن بین الاقوامی برادری کی مذمت کے باوجود مغربی کنارے پر اسرائیلی آباد کاری کی تعداد بڑھتے چلی گئی۔
آنے والے دنوں میں اسرائیلی حکومت نے اس آبادکاری کی بھرپور سرپرستی کی
اسرائیلی حکومت اور فوج نے مغربی کنارے پر ان نئی آبادیوں کے لئے ہر ممکن سہولت کی فراہمی یقینی بنائی۔ سڑکوں کے جال سے ان (یہودی) آبادیوں کو اسرائیل سے جوڑ دیا۔
پورے مغربی کنارے پر یہودی آباد کاری کا جال بچھ گیا۔ اور یہ آبادیاں کوئی کچے مکانوں یا خیموں پر مشتمل نہیں بلکہ جدید ترین تعمیرات کا شاہکار ہیں۔
آبادکاری اب مکمل ریاستی سرپرستی میں جاری ہے۔
مغربی کنارے کی فلسطینی آبادی نے اس سارے عمل کو ناپسندیدگی سے دیکھا اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ اور صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
نوے کی دہائی کے وسط میں امریکی صدر بل کلنٹن ، اسرائیلی وزیراعظم اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات نے اوسلو معاہدہ پر دستخط کئے۔
اس معاہدے کے مطابق فلسطینی حکومت قائم ہوئی اور مغربی کنارے کے علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
A. اس علاقے میں فلسطینیوں کو حکومت اور دفاع پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگا۔ یہ تقریباً مغربی کنارے کا اٹھارہ فیصد حصہ ہے۔ اور زیادہ تر فلسطینی یہیں آباد ہیں۔
اس کے تحت پہلی مرتبہ فلسطینیوں کو حقِ حاکمیت حاصل ہوا۔
B. دوسرا علاقہ فلسطینی حکومت کے ماتحت ہے لیکن اس کا سیکیورٹی کا انتظام اسرائیل کے ماتحت ہے۔ جو اسرائیلی فوج کی وہاں موجودگی کو جواز فراہم کرتا ہے۔ یہ تقریباً مغربی کنارے کا بائیس فیصد حصہ ہے۔
C. تیسرا علاقہ مکمل طور پر اسرائیلی حکومت اور فوج کے کنٹرول میں ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اسرائیلی آبادکاری موجود ہے اور یہ تقریباً مغربی کنارے کا ساٹھ فیصد حصہ ہے۔ مغربی کنارے کا یہ علاقہ زرخیز ہے اور معدنی دولت سے مالا مال بھی
فلسطینیوں پر ان وسائل کو استعمال میں لانے پر سخت پابندی ہے۔ جو کہ انہیں معاشی نقصان سے دو چار کرتی ہے۔
آباد کاری مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔
جو لوگ اس مسلے کا حل دو ملکی ریاست کی صورت میں چاہتے ہیں وہ مغربی کنارے کو فلسطین کی شکل میں ایک نیا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

2019-09-02T03:39:10+05:00 September 2nd, 2019|Blog|