جنگ کوئی نہیں چاہتا

->->

جنگ کوئی نہیں چاہتا

جنگ کوئی نہیں چاہتا

پیر سید مدثر نذر شاہ

دنیا کیلئے یہ بات خوش آئند ہے کہ جنگیں ختم ہونے کو ہیں۔
جنگ کوئی نہیں چاہتا۔
امریکہ دنیا میں سب سے بڑا پاور پلئیر ہے،اس کی موجودگی, قوت، اثر اور مفادات بھی سب سے زیادہ ہیں ۔ ٹرمپ کا امریکہ انتہائی مختلف ہے۔ بظاہر ٹرمپ کو ایک لا ابالی شناخت ملتی چلی گئی لیکن گذشتہ چار سالوں میں ٹرمپ نے ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو جس خوبصورتی سے سمیٹا وہ قابل رشک ہے ۔ امریکہ کا کاروباری صدر اپنے پیش رو سیاستدانوں سے بہت بہتر سیاستدان ثابت ہو رہا ہے۔
امریکی صدر کی پوری توجہ ملکی معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر ہے اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے , ساٹھ کی دھائی کے بعد امریکہ میں اس قدر روگاز کے مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔ صدر ٹرمپ ایک ایسے صدر ہیں جن کا مکمل انحصار معاشی و کاروباری مشیروں پر نہیں بلکہ وہ کاروبار کو اوپر سے نیچے کی سطح تک جانتے اور سمجھتے ہیں۔
بین الااقوامی جنگوں اور محاذوں کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک غیر اعلانیہ اور واضح پالیسی ہے کہ وہ امریکی سر زمین پر امریکی فوجیوں کے تابوت کسی صورت وصول کرنے کو تیار نہیں ۔ صدر ٹرمپ آنکھیں نکال کر دھمکیاں دے کر کام چلانے پر یقین رکھتے ہیں، معاشی پابندیوں کا ہتھیار چلانا خوب جانتے ہیں ، چاہتے ہیں کہ دنیا پھر کے تنازعات اور دفاع کیلئے امریکی اسلحے کی خوب فروخت ہو لیکن براہ راست امریکی فوج کو استعمال کر کے کسی نئے تنازعے میں الجھنے سے بچتے بچتے گزرنا ان کی غیر اعلانیہ پالیسی ہے۔
سعودی ولی عہد کو آہستہ آہستہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ جذباتی فیصلے بیک فائر کر جائیں تو سنبھالنا مشکل ہو جاتے ہیں،محمد بن سلمان کی سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے آزاد کرنا اور اندرون ملک و بیرون ملک نئی معاشی سرگرمیاں تلاش کرنا انکی معاشی پالیسوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
نئے ماڈرن شہروں کی آبادکاری سے لیکر قوانین میں نرمی تک اور بھارت سمیت مختلف ملکوں میں چھوٹی بڑی سرمایہ کاری ایک نئے رجحان کا پتہ دیتی ہے ۔ اب سعودی مذہبی بادشاہت تیزی سے ساھوکاری کا تڑکا لگا کر سخت گیر مذہبی شناخت سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے ۔موجودہ ایران کے ساتھ چپقلش اور اس کے بعد محمد بن سلمان کا بیان کہ سعودی ایرانی جنگ پوری دنیا کی معیشت کو شدید مشکلات کا شکار کر دے گی سے پتہ چلتا ہے کہ اب سعودی عرب مذید تنازعات کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔
ایران اپنے اقدامات میں زیادہ متشدد دکھائی دینے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ کوشش سخت گیر انقلابی سپورٹرز کو مشغول رکھنے کا ایک بہانہ ہیں محض۔ ایران کو گذشتہ چالیس سالہ معاشی پابندیوں نے جہاں ہر لحاظ سے خود کفیل ہونے میں مدد دی وہاں انقلابیوں کی اگلی نسل نسبتا کم جذباتی اور ترقی پسند ہے۔ ایران اس تنازع کے ماحول کو اپنے لئے بہتر مواقع اور گنجائش پیدا کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔
ایک سفارتکار سے گفتگو میں میں نے پوچھا تھا کہ وہ کشمیر تنازعے اور 5 اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو کس طرح دیکھ رہے ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ اتنا سنگین کبھی نہیں ہوگا کہ جتنا سوچا جارہا ہے نہ ہی کوئی اتنا سنگین ہونے دے گا ۔ ایسے مواقع ملکوں کو کبھی کبھی میسر آتے ہیں جہاں وہ اچھی ڈیل لینے اور کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور پاکستان اور بھارت دونوں اس موقع کی اہمیت کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ چھوٹی موٹی جھڑپیں ہو سکتی ہیں اور محدود جنگ بھی لیکن کوئی بڑا کھاتہ نہیں کھلنے دیا جائے گا۔
میرے سوال تھا کہ کشمیر کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے؟ اس بڑے گھر کے مکین کا بہت معنی خیز جواب تھا کہ کشمیر کو بنگلہ دیش بنانے کی جو کوشش ہو رہی ہے کامیاب ہو گئی تو پھر فاصلے سے اپنے ملک کے دوسرے حصے پر قابو رکھنا کوئی اتنا آسان نہیں ہوتا اور یہ تم پاکستانیوں سے بہتر کون جانتا ہے۔
مجھے اسکی بات پلے نہیں پڑی تو اس نے بات بدلتے ہوئے مجھ پر سوال داغ دیا کہ کرتا پور کا افتتاح کب ہونے جا رہا ہے ؟ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس نے بات بدلی یا سمجھائی! لیکن چائے بہت کمال تھی۔

2019-10-02T00:12:54+05:00 October 2nd, 2019|Blog|