انصار الاسلام

->->

انصار الاسلام

انصار الاسلام

پیر سید مدثر نذر شاہ

مولانا فضل الرحمن زیرک سیاستدان ہیں ، سیاست کے میدانوں میں انکی صلاحیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 
سیاسی فہم ، گلی محلے کی سطح کے کارکن سے براہ راست رابطہ اور مستقل مزاجی , تجربے کے ساتھ ساتھ انہیں وہ قوت دیتا چلا گیا کہ آج ان کے پائے کا سیاستدان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔
جمہوریت اکثریت کی حکومت کا نام ہے۔ مولانا واحد سیاست دان ہیں جنہیں اکثریت کے بغیر بھی حکومت کرنے کا فن آتا ہے اور اسکا عملی مظاہرہ ہم پاکستان کے سیاسی افق پر دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔
پہلی مرتبہ مولانا کی جماعت مکمل طور پر اپوزیشن میں ہے۔ چاہے وہ صوبے ہوں یا وفاق ۔
اور اب پورا جہاں گواہ ہے کہ بس وہی اپوزیشن میں ہیں۔ 
مولانا کا تعارف مفتی محمود کے فرزند کے طور پر ہوا لیکن مذہبی شناخت سے پرے مولانا اپنی سیاسی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں چند حلقوں میں مضبوط گرفت مگر ان چند حلقوں کی گرفت کو اس سیاسی مہارت سے بروئے کار لانا کہ حکومت کا دارومدار مولانا کے بغیر چلنا ممکن نہ ہو پائے یہ مولانا کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت رہا۔ 
مولانا کبھی تنگ نظری کے حوالے سے نہیں جانے گئے ۔ ہمیشہ انہیں ایک کشادہ موقف کے ساتھ دیکھا گیا جسکی وجہ سے وہ اپنے ہی ہم فکر دیو بندی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنے اور کئی مرتبہ ان پر اور انکے قریبی ساتھیوں پر حملے بھی ہوئے۔
علمائے دیو بند سے تعلق اور دیو بند کے سیاسی چہرے کے طور پر حاصل شناخت کو مولانا نے کبھی اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دیا ۔ دوسری جانب اپنی سیاسی فالونگ کو اس قدر مضبوطی سے جوڑے رکھا کہ ہر طرح کے الزامات کے باوجود مولانا کبھی کمزور نہیں پڑے ۔
مولانا کی سیاست بجا طور پر مذہبی طبقے کے گرد گھومتی ہے اور اس طبقے کی تشکیل و تحریک میں مسجد اور مدرسے کا فعال کردار ہے، لہذا مولانا اپنی سیاست کو مسجد اور مدرسے سے جوڑے رکھتے ہیں ۔
علمائے دیو بند آزادی پاکستان کے بعد اپنی ایک الگ شناخت کو جلد از سر نو ترتیب دینے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔
مختلف سطح پر جب دیو بند کی فکری ،سیاسی و غیر سیاسی تحریکوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تو بڑی حیثیت تبلیغی جماعت کو حاصل ہے جو ایک مکمل غیر سیاسی تبلیغی تحریک کہلاتی ہے۔ جمعیت علماء اسلام (مولانا فضل الرحمن) بلاشبہ سیاسی چہرہ ہے۔ نصف درجن سے زائد دیگر چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی ہیں اور کچھ حد تک جماعت اسلامی کو فکری طور پر تحریک دیو بند سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن فعال دیوبندی سیاسی افراد، جماعت اسلامی کو اور خود جماعت اسلامی ،اپنے آپ کو تحریک دیو بند سے وابستہ نہیں کرتی۔
شدت کا بیانیہ دیو بند کے پس منظر میں سپاہ صحابہ کے نام سے آگے بڑھا اور وقت کے ساتھ ساتھ جب اس میں لچک اور نرمی آنے لگی اور اس کا رجحان انتخابی سیاست کی جانب مڑنے لگا تو اس میں موجود شدت پسندوں نے لشکر جھنگوی کی صورت میں پرتشدد بیانیہ کو آگے بڑھایا ۔ اسی بیانئے نے تحریک طالبان پاکستان کو بڑی افرادی قوت مہیا کی اور اب داعش کے ساتھ ہم رنگ ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
افغان جہاد اور 9/11 کے بعد کے افغانستان نے دیوبندی عسکری قوت کو پہلے فعال کیا اور پھر مختلف دھڑوں میں تقسیم ۔
دیو بند سے تعلق رکھنے والے بڑے رفاعی ادارے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کی شکل میں ابھرے اور پھر مختلف حالات میں واقعات و الزامات کا شکار ہو کر بین القوامی پابندیوں کا شکار بھی ہوئے۔
اسی نیٹ ورکنگ اور فعالیت کا ایک رخ تب بھی دیکھنے میں آیا کہ جب مضاربہ سکینڈل میں لوگوں کا اربوں روپیہ ڈوب گیا ۔
اس تمام منظر نامے میں مولانا فضل الرحمن انتہائی احتیاط سے اپنا دامن بچاتے صرف سیاست کو ہی اپنا میدان بنائے رہے۔
اس دوران ان کی جماعت میں سخت سوچ کے حامل افراد نے بلوچستان میں پارٹی کو تقسیم کر کے ایک الگ دھڑا بھی قائم کر لیا ،اور چند انتخابی حلقوں پر فتح حاصل کر کے مولانا کے عددی پارلیمانی وجود پر ضرب بھی لگائی لیکن مولانا ان حالات کا سامنا کامیابی سے کر گزرے ۔
مولانا انتہائی مہارت سے ہمیشہ اپنے دیوبندی تشخص کو قائم رکھتے اور ساتھ ساتھ ملی اور اسلامی پہچان بناتے مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے رہے۔
جہاں وہ ایک جانب دیو بند کے نام سے اجتماعات کرتے وہاں دوسری جانب متحدہ مجلس عمل میں سکہ بند بریلوی عالم شاہ احمد نورانی کی قیادت میں اپنی جماعت کو لئے کھڑے دکھائی دیتے اور اس کا آج نتیجہ یہ ہے کہ مولانا شاہ احمد نورانی کے فرزند مولانا فضل الرحمن کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں ۔
گذشتہ کچھ عرصے میں مولانا اپنی جماعت کو مسلکی سیاسی جماعت کی بجائے اسلامی تشخص دینے میں مصروف ہیں اور خاص طور پر تحریک لبیک کے سخت بیانئے کے سامنے آنے کے بعد اور دیگر بریلوی سیاسی جماعتوں کے برائے نام وجود تک پہنچنے کو ایک اچھا موقع سمجھا جا رہا ہے۔
بریلویوں میں مولانا کو دیو بند کے سیاسی چہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے . مولانا کی کوشش ہے کہ اس تصور کو تبدیل کیا جائے لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنے متعلقین میں بھی یہ یقین قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے مفادات کے تحفظ کے ضامن ہیں ۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا کی سیاسی حکمت عملی، تحریک اور اس کے نتائج ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہیں البتہ “تیرہ صفر”کو پشاور میں ہونے والی “انصار الاسلام” کا مارچ ضرور ہیں۔
سوشل میڈیا پر چلنے والی سفید کالے ڈنڈوں اور ڈنڈا بردار “باوردی” افراد کی ویڈیوز اور تصویروں سے پاکستان میں رہنے والے دیگر  مذہبی طبقات میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پاکستان میں مسلکی تقسیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو صوفیاء سے اپنا تعلق بتانے والے بریلوی واضح اکثریت ہیں اسکے بعد اثنائے عشری شعیہ اور دیوبندی تقریبا اب برابر تعداد کا دعوی کرتے ہیں اور ان کے علاوہ اسماعیلی ، بوہرا، اہلحدیث اور کچھ اور مسلکی گروہ کم کم تعداد میں پائے جاتے ہیں 
بلاشبہ دیوبندی سیاسی اور تحریکی حوالوں سے سب سے مضبوط شناخت رکھتے ہیں اور اس کے بعد شعیہ، نظم کے حوالے سے۔
ماضی قریب میں جن مذہبی گروہوں نے قوت کا استعمال مخالف طبقات یا ریاست کے خلاف کیا ان کی اکثریت دیو بند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی تھی۔
بلاشبہ شاید مولانا اپنی سیاسی تحریک کی دھاک بٹھانے کو یا حکومت و ریاست کو اپنا زور دکھانے اور کسی سخت رد عمل سے باز رکھنے کو اپنی قوت کا اظہار کر رہے ہوں ، لیکن اس نے پاکستان کے اکثریتی بریلویوں اور شعیوں کو متفکر کر دیا ہے۔ 
باوردی اور ڈنڈا بردار انصار الاسلام کے مظاہرے نے قندھار کے نواح میں طالبان کی تحریک کی ابتداء کی جھلک دکھانے کے ساتھ ساتھ مولانا کی سنجیدہ سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ۔
خدشات جنم لے رہے ہیں کہ اگر ریاست مولانا کے مارچ پر قوت کا استعمال کرتی ہے اور خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے تو وہ لال مسجد کے حادثے کے بعد کے حالات کا رخ اختیار نہ کر جائے ۔اور اگر ریاست نرمی بڑتتی ہے اور ڈنڈا بردار (جنہیں ابھی میں صرف ڈنڈا بردار ہی سمجھتا ہوں, اسلحہ بردار نہیں ) نظام حکومت کو مفلوج کر دیتے ہیں تو یہ کل نظام ریاست کو مفلوج کرنے کی قوت بھی حاصل کر جائیں گے۔ تب کیا ہوگا ؟
خدشات اور تحفظات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن سب کا ذکر اس مرحلے پر کرنا ضروری نہیں۔ مولانا کو اپنے سیاسی تشخص کو دھندلا ہونے سے بچانے کی شدید ضرورت ہے۔ سیاست کریں ، حکومت کریں، اپوزیشن کریں لیکن دانستہ یا غیر دانستہ طور پر عوام کو اپنے آپ سے غیر محفوظ اور خطرہ محسوس ہونے کا موقع نہ دیں۔ ورنہ اگر اس سارے عمل کو “غیر سیاسی” انداز میں دیکھا گیا تو “عوام” مجبور ہونگے کہ “ریاست” پر اپنے تحفظ کیلئے زور ڈالیں ۔

2019-10-14T21:25:08+05:00 October 14th, 2019|Blog|