جنرل قاسم کے بعد

->->

جنرل قاسم کے بعد

جنرل قاسم کے بعد

پیر سید مدثر نذر شاہ

جنرل قاسم سیلمانی کی ایک امریکی حملے میں ہلاکت پچھلی دو دہائیوں میں وقوع پذیر ہونے والا سب سے بڑا حادثہ ہے۔ اسے اسامہ بن لادن، صدام حسین اور معمر قذافی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اسامہ ایک جہادی تنظیم کے سربراہ تھے۔ صدام حسین اور قذافی ان ممالک کے سربراہ جو جنگ سے تباہ ہو چکےتھے اور انکی مخالف حکومتیں برسراقتدار تھیں۔ لیکن جنرل قاسم سیلمانی ایران کی فوج کے ایک دستے کے کمانڈر تھے۔
پچھلے دنوں ایران کے دورے کے دوران دیکھنے میں آیا کہ بہت سے درودیوار جنرل قاسم کے بلند قامد تصویری نقوش سے آراستہ ہیں۔ ملک کے انقلاب پسندوں میں انہیں ایک ہیرو کی طرح جانا اور مانا جاتا ہے۔
جنرل قاسم کی زیرِ کمان القدس فورس کئی حوالوں سے منفرد تھی۔ کہتےہیں کہ اس فورس کا کمانڈر ایران کے سپریم لیڈر کو براہِ راست رپورٹ کرتا تھا۔ اس حوالے سے جنرل قاسم کو انتہائی طاقتور فرد کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔
القدس فورس ایران کی بجائے ایران سے باہر آپریٹ کرتی تھی۔یہ بات جنرل قاسم کو خطے میں (جہاں جہاں ایرانی مفادات ہیں) ایک مکمل اختیار عطا کرتی تھی۔
افغانستان، عراق، شام، بحرین، لبنان اور یمن وہ ممالک ہیں جہاں ایران کے مفادات یا طاقت کے کھیل میں مطلوبہ اختیار کی طلب دیکھنے میں آتی ہے۔
داعش کا مقابلہ یا لبنان کے حسن نصراللہ کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف امداد وہ اہداف ہیں جن کو ایران نےجنرل قاسم کی نگرانی میں سر کیا۔ جنرل قاسم 2012 میں ایک مضبوط صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے تھے لیکن انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔
جنرل قاسم کی ہلاکت کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔
فرید ذکریا نے اس مشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں سمجھ نہیں پایا کہ ہم (امریکی) اس سے حاصل کیا کرناچاہ رہے ہیں؟ کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا؟ کوئی تبدیلی آئے گی؟ منظرنامہ تبدیل ہوگا؟ تو اس کا جواب ہے “نہیں”۔
پاکستان میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد (شعیہ تنظیموں کے مطابق چار کروڑ) فکری طور پر اپنے آپ کو انقلاب ایران سے جوڑتی ہے۔ یہ بات گردش کرتی رہی کہ پاکستان سے لوگ ایران عراق جنگ سے حالیہ شام کی جنگ میں بھی تھوڑی بہت تعداد میں شرکت کرتے رہے ہیں۔
ماضی کی فرقہ وارانہ چپقلش میں بھی اس بات کو دہرایا جاتا تھا کہ ایران پاکستانی شعیوں کو مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ اور اب بھی ایران براہِ راست مختلف افراد، جماعتوں اور گروہوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کو پاکستان میں بڑی سرمایا کاری کرتا ہے۔
جنرل قاسم کا عراق، شام اور یمن میں کردار سعودی عرب کی آنکھوں میں بھی کھٹکتا تھا۔ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں اور ایران کی بین الاقوامی گھیرابندیوں کے تناظر میں اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اگر آئیندہ اس خطے میں کوئی نیا معرکہ درپیش آنے کو ہے تو اس میں پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟
ایران اور سعودی عرب اپنے دیرینہ مراسم اور سالوں کی سرمایاکاری کے نتیجے میں پاکستان کے دو مذہبی اقلیتی گروہوں پر خاصا اثر رکھتے ہیں۔ اور گرما گرمی کے دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں پاکستان کی اکثریت صوفی مشرب کی آبادی کہاں کھڑی ہوگی؟

2020-01-03T16:31:25+05:00 January 3rd, 2020|Blog|