حضرت مائی صفورہ ؒ قادریہ

->->حضرت مائی صفورہ ؒ قادریہ

حضرت مائی صفورہ ؒ قادریہ

ہمارے اسلاف

مہمان : صاحبزادہ یوسف طاہر

رابعہ زمان حضرت مائ صفورہ رح کے حقیقی دادا خواجہ ابوالفتح داؤد فاروقی قادری رح قندھار کے راستے سدوزئی افغانوں کے ساتھ ملتان وارد ھوے مگر کچھ دنوں بعد شہر میں سیاسی افراتفری سے بیزار ھو کر شورکوٹ چلے آئے اور یہاں رشد و ھدایت کا سلسلہ دراز کیا _ ریاست جھنگ کا تیرھواں نواب ولی داد خان ( م 1747ء ) حضرت خواجہ کی شخصیت اور علمیت سے بے حد متاثر ھوا اس نے آپ کو شورکوٹ کے جنوب میں واقع قصبہ جڑالہ میں چاہ کھجی والا بہ طور مدد معاش عطیہ دیا اور آپ کو وھاں دینی مدرسہ قائم کرنے کے ساتھ عوام کے تنازعات فیصل کرنے اور زمینداروں سے مالگزاری وصول کرنے میں تعاون کی ذمہ داری بھی سونپ دی _ خواجہ صاحب نے یہ سارے فرائض م��صبی بہ طریق احسن ادا کیے _ آپ کی روحانیت سے متاثر ھو کر ساندل بار کے کثیر عوام آپ کے دامن فیض سے وابستہ ھو گئے_ خراسان سےملتان آمد کے وقت خواجہ داؤد کے دو فرزند رستم علی اور کرم علی بھی ھمراہ تھے جو دونوں بڑے عالم فاضل ثابت ھوے_ رستم علی شادی شدہ تھے _ ان کی زوجہ بی بی سارہ خواندہ اور مذھبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں_ کرم علی کا نکاح پنڈی بھٹیاں کے ایک مرید بھٹی زمیندار کی دختر سے ھوا _ حضرت رستم علی کے دو بیٹے حکیم اور حسین اورحضرت کرم علی کا ایک فرزند نور محمد شورکوٹ میں پیدا ھوے _ ان تینوں کی تعلیم و تربیت باپ دادا کی نگرانی میں ھوئ _ جڑالہ میں حضرت رستم علی کو غوث الاعظم کے پوتے اور حضرت عبد الرزاق رح کے فرزند حضرت شاہ جمال اللہ عرف حیات المیر کی زیارت کا شرف حاصل ھوا جن کو اپنے جد امجد کی دعا سے حیات جاوید حاصل ھے _ شاہ لطیف بری امام ٫ سید محمد مقیم شاہ ( حجرہ) ا��ر سلطان عبدالحکیم رح کے علاوہ بہت سے دیگر بزرگ ان سے فیض یاب ھوے _ حیات المیر نے رستم علی کو بھی بشارت دی کہ اس کے گھر میں ایک دختر مادر زاد ولیہ کاملہ پیدا ھوگی جو عبادت و ریاضت کے بعد روحانی ترقی کر کے رابعہ زمان کے مرتبہ پر فائز ھوگی_ 1155ھ / 1742 ء میں وہ جلیل القدر بیٹی بی بی سارہ کے ھاں جلوہ گر ھوئ _ ماں نے مرشد کے حسب ارشاد اس معصومہ کا نام صفورہ رکھا سات سال کی عمر میں اسے ضروری دینی تعلیم سے آراستہ کر کے ابادی کے باھر چراگاہ میں حجرہ کے اندر عبادت و ریاضت کے لیے بٹھا دیا گیا _ گیارہ سال کی عمر میں صفورہ کو حیات المیر رح کی زیارت نصیب ھوئ _ مرشد نے آپ کو چالیس چلے دربار حضرت چاولی مشائخ ( حاجی شیر دیوان نزد بورے والا) پر کاٹنے کا ارشاد فرمایا جو آپ نے اپنے والد اور کنیزوں کے تعاون سے پورے کیے _اخر صاحب مزار کی باطنی توجہ سے آپ نے اپنی منزل مراد اور حسن ازلی کو پا لیا جو مقصود حقیقی ھے_ زبدہ الصالحین قاضی جیون سلطان د��جلی نےاپنے پیر و مرشد خواجہ محکم الدین سیرانی رح کےبارے اپنی کتاب لطائف سیریہ میں مائ صاحبہ کو ان شاندار القابات سے خراج عقیدت پیش کیا ھے ” جناب کاملہ رابعہ الوقت قادریہ النسبتہ عفیفہ مستورہ مائ صاحبہ مائ صفورہ رضی للہ عنھا_ چلہ کشی سے واپسی پر مائ صاحبہ کا عقد شرعی اپنے چچا زاد نور محمد سے انجام پایا _ 1172 ھ میں ان کے ھاں ایک فرزند صالح محمد صفوری پیدا ھوے جو بڑے ھو کر علم و عرفان اور شعر وادب کے حلقوں میں نامور ھوے اور ان کی اولاد میانہ صفوری کہلاتی ھے _ 1175 ھ میں بذریعہ الہام ربانی مائ صاحبہ کو جڑالہ سے ھجرت کر کے سدھنائی پر پنڈی شاہ حیات المیر کے پاس سکونت پذیر ھونے کا حکم ملا _ مائ صاحبہ اپنا آبائی گھر چھوڑ کر یہاں آ گئیں اور موجودہ دربار کی جگہ پر دینی اور روحانی خانقاہ کی بنیاد رکھی _ جھنگ کے نواب عنایت اللہ خان نے عمارات کی تعمیر کے لیے مالی معاونت کی _ موضع ککی نو( شورکوٹ) کے کاٹھیہ ٫ سدھنائ کے سرگانہ ٫ تلمبہ کے ھراج اور جوسا کے زمینداروں نے اپنےچاھات اور نخلستان لنگر کے اخراجات کے لیے نذرانہ دیے_ اس طرح تبلیغ و تلقین اور تدریس و تعلیم کا نظام خاطر خواہ طور پر چلنے لگا _ ملتان٫ بہاول پور ٫ راولپنڈی٫ ڈیرہ اسماعیل خان ٫ جموں اور بیکانیر تک عوام و خواص آپ کے دامن روحانیت سے وابستہ ھو گئے _ 1177ھ میں بادشاہ افغانستان احمد شاہ درانی کے تحت صوبیدار ملتان نواب شاہ شجاع نے مائ صاحبہ کو پانچ چاہ اور ایک جھلار اراضی( 500 بیگھے) مدد معاش ھبہ کر دی جو آج تک ھمارے خاندان کی ملکیت ھے _ 1209 ھ میں مائ صاحبہ وفات پا گئیں _ نواب مظفر خان سدوزئی ناظم ملتان نے آپ کا عالی شان مقبرہ تعمیر کروایا _ 1809 ء میں باشاہ افغانستان شاہ شجاع الملک کو بارک زئی پٹھانوں نے تخت کابل سے سازش کے ذریعے اتار دیا _ بادشاہ معزولی کے دنوں میں ملتان آیا تو مائ صفورہ رح کے مزار پر دعا کے لیے پہنچا اور سجادہ نشین حضرت صالح محمد صفوری کو معقول نذرانہ عطیہ دیا _ اب بھی روزانہ عقیدت مندوں کی کثیر تعداد دربار کی زیارت کے لیے آتی ھے ٫٫صاحب مزار کے وسیلے سے بارگاہ الہٰی میں اپنی مرادیں پیش کرتی ھے اور جھولیاں بھر کر واپس جاتی ھے

2020-09-27T00:37:41+05:00 September 13th, 2020|Vlog|